5 فروری 2013 - 20:30

اردن ميں احتجاج کا سلسہ ايک بار پھر شروع ہوگيا ہے اور بڑي تعداد ميں لوگوں نے دارالحکومت امان کي سڑکوں پر آکے مظاہرے کئے ہيں-

ابنا: خبروں کے مطابق سيکڑوں کي تعداد ميں اردن کے شہري دارالحکومت امان کي سڑکوں پر آئے اور انہوں نے پارليمنٹ ہاوس کے سامنے احتجاج کيا-
مظاہرين ملک کے بادشاہ اور حکومت کے خلاف نعرے لگا رہے تھے-
مظاہرين پارلمنٹ ہاوس کے سامنے دھرنا ديکر بيٹھنا چاہتے تھے تاہم پوليس نے انہيں ايسا کرنے کي اجازت نہيں دي-
مظاہروں ميں اردن کي مختلف سياسي جماعتوں اور تنظيموں کے کارکن اور رہنما شريک تھے- يہ مظاہرے ايسے وقت ميں ہوئے جب اردن کي سب سے بڑي اپوزيشن جماعت اخوان المسلمين نے نئي حکومت ميں شموليت سے انکار کرديا ہے-
اردن کے بادشاہ کو توقع تھي کہ پارليماني انتخابات اور نئي حکومت کي تشکيل سے ملک ميں عوامي مخالفت کا سلسلہ ختم ہوجائے گا ليکن تازہ مظاہرے اس بات کي نشاندھي کرتے ہيں کہ اردن ميں شاہي نظام کي مخالفت کي جڑيں معاشرے ميں بہت گہري ہوگئي ہيں.
.......
/169